جہاں تاب

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - دنیا کو روشن کرنے والا (سورج چاند یا حسن وغیرہ)۔ "یہ جہاں تاب آفتاب، یہ چودھویں کا چاند یہ اندھیری راتوں کے تارے، یہ نیلگوں آسماں۔"      ( ١٩٢٦ء، مضامین شرر، ١٥٨:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'جہاں' کے ساتھ فارسی مصدر 'تابیدن' سے مشتق صیغہ امر 'تاب' بطور لاحقہ فاعلی ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٠٧ء میں "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔۔

مثالیں

١ - دنیا کو روشن کرنے والا (سورج چاند یا حسن وغیرہ)۔ "یہ جہاں تاب آفتاب، یہ چودھویں کا چاند یہ اندھیری راتوں کے تارے، یہ نیلگوں آسماں۔"      ( ١٩٢٦ء، مضامین شرر، ١٥٨:١ )